ہنسی علاج غم ہے

کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہے کہ ہنسی علاج غم ہے. مگر ہم لوگوں میں ایک خرابی ہے کہ ہم لوگ سیانے لوگوں کی باتوں پر کم ہی کان دھرتے ہیں۔ آج کل جس شخص سے بھی ملیں  پریشان اور مسائل میں الجھا ہوا نظر آئے گا۔ خود اپنی مثال ہی لے لیجئے اگر سوچا جائے تو یہ بات معلوم ہوگی کہ سارے مسائل ہمارے اپنے پیداکردہ ہیں اور ذرا سی عقل استعمال کرنے سے ہم تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔  کئی چھوٹے چھوٹے مسئلے ایسے ہیں جنہیں ہم مسائل کا پہاڑ سمجھتے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ خدا ہی اپنے بندوں کو آزمائشں میں ڈالتا ہے۔ اور پھر ان آزمائشوں سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق بھی فرماتا ہے۔ یہ کون سی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر مسائل حل نہ ہو ہو تو جلنا کڑھنا شروع کردیں۔ اشرف المخلوقات ذرا سی عقل استعمال کرے تو پھر یہ انکشاف ہوگا کہ جلنے کڑھنے سے ہمارا اپنا خون خشک اور رنگ کالا ہوتا ہے۔ اور جہاں مایوسی  سے ہزاروں کام بگڑتے ہیں وہاں صرف اللہ پر یقین اور اپنی ذات پر اعتماد اور ایک مسکراہٹ سے ہزاروں کا م سنور بھی جاتے ہیں۔ مایوسی اور ڈپریشن کو خود پر طاری نہ ہونے دیا جائے اور اگر مصاحب کے انبار لگ جائیں تو یہ سوچ رکھنا بہتر ہے کہ ؎

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

زندگی صرف ایک ہی بار ملتی ہے۔ اسے ہنسی خوشی بسر کریں اور یہ سوچ لیں کہ اگر زندگی میں مصیبتیں اور مشکلات آتی ہیں تو پھر خوشیاں بھی بھرپور طریقے سے ملتی ہیں، ہر بات کو نارمل انداز میں لیں۔

اپنی شخصیت ایسی بنائی کہ جہاں بھی جائیں وہاں لوگ آپ کے اخلاق کے گرویدہ ہوجائیں اور آپ جب تک وہاں رہیں مسکراہٹوں کے پھول جھڑتے رہیں۔ خود بھی خوش رہیں دوسروں کو بھی خوش رکھیں جب آپ خوش ہوں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ زندگی کتنی پیاری ہے۔ خوشیوں کی دھنک آپ کے آنگن میں اتری رہے گی اور مسکراہٹوں کی تتلیاں اس ارض پاک کے پھولوں پر منڈلاتی رہیں گی۔ پھر دیکھیے گا کہ ان کی زندگی کتنی پرسکون اور آرام دہ ہو جائی گی۔ قدم قدم پر خوشیاں آپ کے ہمراہ ہوں گی۔

زندگی کو ایک ایسا سفید لباس مت بنائیں جس پرغم کے داغ نمایاں ہوں۔ بلکہ زندگی کے لباس کو ایسے شوخ رنگوں سے مزین کر دیں جس میں غم کے داغ چھپ جائیں۔ اگر آپ زندگی کو غم کی اندھیری رات سمجھتے ہیں تو بجائے اس کے کہ آپ بھی اسی اندھیرے کا حصہ بنیں، آگے بڑھ کر اس اندھیری رات میں خوشی کا جگنو بن کر اپنی شناخت کروائیں۔ خود بھی منزل کا تعین کریں دوسروں کو بھی امید کی کرن دکھائیں۔ خوش رہیں اور جب آپ خوشیوں کی ہمراہی میں اپنے ارد گرد دیکھیں گے تو زندگی کو ایک نئے انداز میں پھولوں کی سی نرمی، بارش کی بوندوں جیسی ٹھنڈک، بچوں جیسی معصومیت، آپ کے وجود کی سچائی، سوندھی سوندھی مٹی کی خوشبو اور ماں اس کے وجود کی پاکیزگی لئے آپ کے منتظر ہوگی۔ آگے بڑھیے ان خوشیوں پر آپ کا بھی حق ہے اور یہ ایسا حق ہے جس سے آپ چاہیں بھی تو دستبردار نہیں ہو سکتے کیونکہ ہر اندھیری رات کے بعد روشن صبح ضرورطلوع ہوتی ہے۔