غصہ

زندگی جدوجہد اور مسائل سے عبارت ہے۔ ایک شخص کی زندگی میں بے شمارا ایسے مقامات آتے ہیں جب اس کو پیش آمد صورتحال سے نمٹنے کے لئے سخت ذہنی اور جسمانی کاوش کی ضرورت ہوتی ہے۔ عموماً وہ لوگ اس دنیا میں زیادہ کامیاب گردا نے جاتے ہیں جو حالات کا مقابلہ تحمل، بردباری اور ٹھنڈے دل و دماغ سے کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جلدبازی، جذباتیت اورغصہ حالات کو سنوارنے کے بحائے بگاڑ کی طرف مائل کرتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی جلد بازی سے کام نہ لیا جائے؟ ایسا سوچناغالباً انسانی فطرت کو نہ سمجھنے کے مترادف ہوگا۔ محبت، نفرت ،خوشی غم، تحمل، غصہ یہ سب انسان کی شخصیت کا حصہ ہیں اور ان کا انکار اظہار بھی فطری ہے۔ جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ اعتدال اور میانہ روی ہیں۔ انسانِ کامل حبیب عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بہترین راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان زندگی کے شعبہ اور انسانی شخصیات اور کردار کے برظاہری و باطنی پہلو پر یکساں نافذالعمل ہے۔

غصہ کیا ہے؟ یہ دراصل حالات و معاملات کے اپنی مرضی کےتکمیل  پذیر نہ ہونے پر ایک ذہنی رد عمل کا نام ہے۔ باالفاظ دیگر جب ہم اپنے کاموں کی انجام دہی میں یا ارادوں کی تکمیل میں رکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو ہمارا ردعمل غصے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم یہاں وضاحت ضروری ہے کہ ہر قسم کی رکاوٹ غصے کا سبب نہیں بنتی۔ آسان سی مثال ہے کہ اگر موسم کی خرابی کے باعث آپ کاامتحان مقررہ تاریخ پرنہ ہو سکےتو آپ کو غصہ نہیں آئے گا لیکن اگر ضروری کام سے گھر سے نکلتے ہوئے اچانک کسی سبب آپ کو دیر ہونے لگے تو آپ کو غصہ آنے لگے گا۔

آپ نے اکثر یہ بات نوٹ کی ہوگی کہ آپ اس وقت غصہ کرتے ہیں یا غصے میں آجاتے ہیں جب کوئی کام آپ کی منشاء کے مطابق نہ ہو پا رہا ہو۔ جبکہ لاشعوری طور پر اس وقت ذہن میں موجود نہ ہو کہ ایسا کوئی سبب نہیں جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکیں۔ مثلاً بچے کو پڑھاتے ہوئے آپ اس وقت غصہ کرتے ہیں جب آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی تمام تر محنت کے باوجود پڑھائی پرپوری توجہ نہیں دے رہا ہے۔ دفتر میں اپنے ماتحتوں پر آپ اس وقت غصہ کرتے ہیں جب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں نے کام کی انجام دہی میں اپنی پوری صلاحیتیں استعمال نہیں کی ہیں۔ کام کی نوعیت خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو مگر اس کی من پسند تکمیل ہمارے لئے انا کا مسئلہ بن جاتی ہے اور مخالفانہ مسائل انا پر چوٹ کے مترادف ہوتے ہیں۔ نتیجتاً اپنی بےعزتی کا احساس بے بسی، محرومی یا مایوسی پر ہم ذہنی طور پر جھنجھلا اٹھتے ہیں۔ یہ صورتحال اعصاب کے بوجھ کا باعث ہوتی ہےاور ہم وقتی طور پر شور مچا کر ڈانٹ ڈپٹ کرچیخنے چلانے سے اس دباؤ کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ایک انسان شدید غصے کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کا ذہن اعصاب اور جسم شدید تناؤ کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جسم کے مختلف نظام اپنی معمولی کارکردگی میں تناؤ کے سبب  مزاحمت محسوس کرتے ہیں۔ نتیجتاً جسمانی طور پر مختلف منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً دورانِ خون بڑھ جاتا ہے، نظام ہضم متاثر ہوتا ہے(اس لئے عام طور پر کھانا کھاتے وقت غصہ کرنا برا سمجھا جاتا ہے)۔ نیند متاثر ہوتی ہےاور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، نظام ہائے جسمانی کی کارکردگی میں مزاحمت کا تسلسل مجموعی طور پر انسان کی صحت پر برے اثرات مرتب کرتا ہے جس کے نتیجے میں ہر وقت غصے میں رہنے والا شخص مختلف جسمانی بیماریوں اور ذہنی دباؤ کے سبب خود اپنی کارکردگی گھٹانے کے علاوہ معاشرے میں اپنے لئے اچھا مرتبہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔ اس لئے کہ ایک چڑچڑے مزاج اورغصیلے شخص کو لوگ مجبوراً تو برداشت کرسکتے ہیں مگر ایسا شخص عام طور پرہر دلعزیز اور لوگوں میں مقبول نہیں ہو سکتا۔

مذکورہ بالا اسباب کے علاوہ غصہ کے بعض جسمانی اسباب بھی ہو سکتے ہیں مثلاً خون میں شکر کی کمی، بلیڈ پریشر کی زیادتی، ایسی بیماریاں جن کی وجہ سے انسان قلبِ خون کا شکار ہوجاتا ہے۔ عام جسمانی کمزوری اور بعض اعصابی امراض وغیرہ کی موجودگی میں بھی اکثر لوگ اپنا جذباتی توازن برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہتے۔ ان کی زود رنجی انتہا کو جا پہنچتی ہےاور مخالفانہ صورت حال کا ہلکار سا تاثر بھی ان کے لئے غصے کا سبب بن جاتا ہے۔ اب دو صورتیں ہمارے سامنے ہیں ایک یہ کہ جو لوگ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے اور اکثر غصے میں رہتے ہیں ان کو کئی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ کئی بیماریاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے انسان کو غصہ جلد آ جاتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ کے لحاظ سے منفی یا مخالفانہ صورتحال پیش آنے پر واقع ہونے والے ذہنی دباؤ کو دور کرنے کے لئے فوری ردعمل کے طور پر غصہ کے اظہار کے علاوہ بھی کئی اور طریقے ہیں اور آپ کو غصے کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔

غصے کی حالت میں ٹھنڈا پانی پی لینا، ذہن کو دوسری باتوں میں مصروف کر لینا اور اس کی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی کام میں مشغول ہو جانا بھی ایک اچھی مشق ہے۔ جن لوگوں کو بات بے بات پر غصہ آ جاتا ہے ان کے لئے صحیح نکلنے سے قبل گھاس پر ننگے پاؤں چہل قدمی مفید ثابت ہوتی ہے۔