بچے آپ کی بات کیوں نہیں مانتے؟

نافرمانی کا گلہ کرنے کے بجائے اسباب تلاش کیجیئے!

ہمارے معاشرے میں بچوں کے مزاج میں در آنے والی ضد اور ہٹ دھرمی کی سب سے بڑی وجہ معاشرے میں جاری مسلسل تبدیلیاں اور عمومی طرز زندگی میں تیزی سے آنے والا بدلائو ہے۔ زندگی کی تیز رفتاری کو جواز بنا کر والدین اپنے بچوں کے ساتھ وقت نہیں گزارتے جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی دلچسپیاں، مسائل اور ان کی شخصیت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ نہیں کرپاتے۔ اس طرز عمل سے اکثر بچوں اور والدین کے درمیان ایک خلا پیدا ہوجاتا ہے۔ اس خلا کے باعث بچوں کے دل میں یہ خیال جڑ پکڑنے لگتا ہے کہ ان کے والدین ان کی بات نہیں سمجھتے۔ رفتہ رفتہ یہ شکایت نافرمانی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

بڑی عمر کے بچوں کے رویے کی تشکیل میں بیرونی اثرات خصوصاً ان کی صحبت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عموماً والدین یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے بچوں کے ساتھی کس ماحول سے تعلق رکھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچے کی شخصیت میں آنے والی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنے والے والدین کو ناخوشگوار نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کسی بھی معیاری اور اچھی درسگاہ میں محض نصابی تعلیم فراہم نہیں کی جاتی بلکہ وہاں طالب علموں کی تربیت کا بھی اہتمام ہوتا ہے لیکن ہماری اکثر درسگاہیں اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتیں۔ گو کہ نصابی کتب میں اخلاقیات اور دوسروں سے اچھے برتائو کے متعلق اسباق شامل ہوتے ہیں لیکن عملی تربیت اور ماحول کے بغیر یہ الفاظ عمل کا روپ نہیں دھار سکتے۔ ناسازگار خاندانی حالات بچے کی شخصیت پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ والدین کے مابین یا خاندان میں ہونے والی ناچاقیاں اس کے رویے کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ اگر بچے کے ارد گرد اکثر لوگ لڑائی جھگڑوں میں اُلجھے رہتے ہوں تو اس میں سرکشی کی کیفیت پیدا ہونا کوئی قابلِ حیرت بات نہیں۔ خواہشات اور ضروریات کے حصل میں دشواری بھی بچے کو ذہنی جھنجھلاہٹ کا شکار کر دیتی ہے۔ اگر اس کے گرد ہم عمر بچوں کو وہ آسائشیں حاصل ہوں جن کی وہ خواہش رکھتا ہے تو یہ کیفیت اسے والدین سے شاکی بنادیتی ہے۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ یہ شکایت شدت اختیار کرتی چلی جاتی ہے اور سرکشی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

بچوں کا گھر کے افراد، محلے کے بچوں اور اسکول کے ساتھیوں سے ہر وقت اُلجھنا تشویشناک ہے۔ یہ ان کے جذباتی عدم توازن کا واضح ثبوت ہے۔ بچے کی تربیت میں والدین کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ گھر میں گزرنے والے وقت کے اثرات عمر بھر ہماری شخصیت پر حاوی رہتے ہیں۔ اس لیئے بچوں کے کردار کو صحیح خطوط پر استوار کرنے اور نافرمانی کے رویے کو ختم کرنے کے لیئے کچھ تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے۔ بچہ نشونما کی مختلف منازل سے گزرتا ہے۔ ہر منزل کی اپنی خصوصیات ہیں۔ ماہرین کی رائے کے مطابق اچھا لائحہ عمل اختیار کر کے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ابتدائی عمر دو سے چھ سال تک کا عرصہ ہوتی ہے۔ یہ دور گھریلو ماحول اور اہلِ خانہ تک محدود ہوتا ہے۔ بچہ عموماً جسمانی سرگرمی والے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ایک جگہ خاموش بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔ بہت جلد اکتاہٹ محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس دور میں بچے کو کنٹرول کرنا خاصا مشکل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلا وجہ روک ٹوک نہ کی جائے۔ اس سے بچوں میں ضد کا رحجان بڑھتا ہے۔

بچے کو کھیل میں مشغول رکھ کر نظم و ضبط کے ساتھ کچھ آزادی دی جائے۔ بچے کی شخصیت کی تعمیر اس عمر میں بہت تیزی سے ہوتی ہے۔ اس لیئے لاڈ پیار میں اعتدال، نیند اور خوراک کا خیال رکھنا نہایت ؔضروری ہے۔

درمیانی عمر میں سات سے بارہ سال کے بچے شامل ہیں۔ اس عمر میں بچہ دنیا سے واضح فہم حاصل کر لیتا ہے۔ بے تحاشہ سوالات کر کے ہر چیز کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ والدین اکثر تنگ آکر بچے کو جھڑک دیتے ہیں جس کے ردِ عمل کے طور پر بچہ والدین کی بات بھی سننے سے انکاری ہوجاتا ہے۔ اس عمر میں گھریلو ماحول، کھیل کود کے ساتھی اور اسکول اثر انداز ہوتے ہیں اس لیئے نگرانی نہایت اہم ہے۔ اساتذہ سے رابطہ ضروری ہے تاکہ باہمی تعاون سے بچے کے انفرادی مسائل اور اُلجھنوں کو سمجھنے اور باہمی مشوروں سے ان کو حل کرنے کی کوشش کی جاسکے لیکن یہ عمل تقریباً ناپید ہوچکا ہے۔ والدین کا اساتذہ سے رابطہ ہی نہیں ہوتا۔ والدین فیس ادا کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ بارہ تیرہ برس کی عمر ذہنی پختگی کا دور ہے اس عمر میں بچے بہت جذباتی ہوتے ہیں۔ معمولی نوعیت کی معاشرتی بے اعتدالیاں، نا انصافیاں شدید ردِ عمل پیدا کردیتی ہیں۔ اس عمر میں خاص طور پر بچے کی عزت نفس کو مجروح کرنے سے گریز کیا جائے۔ اس دور میں بچوں کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پریشان نہ ہوں اور منفی سوچ سے بچے رہیں۔ ان کے وقت کو سائنس، مصوری اور دیگر تخلیقی مقاصد سے بھرپور میدانوں میں مصروف کر دینا چاہئے تاکہ ان کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔

بچے چاہے جس عمر سے تعلق رکھتے ہوں، چند عمومی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ معمولی باتوں میں بچے کو انتخاب کی آزادی اور فیصلے کا شعور دینا چاہئے۔ رہنمائی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنا فیصلہ بچے پر مسلط کریں۔ فیصلوں اور نتائج کے بارے میں احساس ذمہ داری پیدا کرنا پہلا قدم ہے۔ جب روزِ اوّل سے بچوں میں صحیح اور غلط کا شعور پیدا کر دیا جائے گا تو اپنی کسی بھی غلطی پر ان میں شرمندگی پیدا ہوگی۔ بچوں کو بتایا جائے کہ معاشرتی اقدار کیا ہیں، تربیت سے اُسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور اپنے کردار کا تجزیہ کرنے کے قابل ہوجائے۔ بچوں میں فرمانبرداری کا جذبہ پیدا کرنے کا ایک سنہری اصول یہ بھی ہے کہ والدین اور اساتذہ خود اپنے جذبات کے اظہار میں توازن کا ہمہ وقت خیال رکھیں۔ اگر راہنمائی کرنے والوں کی اپنی زندگی اضطراب، محرومیوں، تلخ کلامی، لڑائی جھگڑوں اور بد مزگیوں سے پاک ہوگی تو بچے کی جذباتی زندگی میں بھی صحت اور توازن کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ بچوں کے رویے میں تبدیلی سے غفلت برتنے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اگر ان پر بر وقت توجہ نہ دی جائے تو وہ بڑے ہوکر اپنی ذات، خاندان بلکہ سارے معاشرے کے لیئے باعثِ زحمت بن سکتے ہیں۔