اپنا امیج بنائیے

(محمد ذکریا)

کسی شخص کے بزنس، سپورٹس، محبت، لیڈرشپ  اور ملازمت میں کامیابی کی کلید صرف ایک بنیادی چیز ہے اور وہ ہے سیلف امیج- وہ لوگ جن کو اپنی ذات اور اپنی خوبیوں پر مکمل اور ٹھوس اعتماد ہوتا ہے، وہ کامیابی کے لوہے کے لیے گویا مقناطیس کی حیثیت رکھتے ہیں- جو ان کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔ ایسے افراد کی گود میں کامیابیاں يوں گرتی ہیں جیسے کسی شخص کی گود میں پکا ہوا سیب گرتا ہے- کچھ ایسے لوگوں کے برعکس بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہیں وہ ٹوٹ جاتی ہے- جس منصوبے کا ارادہ کرتے ہیں، وہ سوچ بچار کے زینے ہی پر اٹک جاتا ہے- بعض کام شروع کرتے ہیں تو وہ ادھورے رہ جاتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ناکامی ان کا تعاقب بڑی سرعت  سے کرتی ہے- کوئی کام با مراد نہیں ہوتا۔ چونکہ ان کا سیلف امیج بڑا مایوس کن ہوتا ہے اس لئے وہ اپنی کامیابیوں کے جہاز کو تارپیڈو خود ہی مارتے رہتے ہیں- جس کے نتیجے میں ان کا امیدوں بھرا جہاز مایوسی کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔

ہمارا سیلف امیج اپنے ذہن میں کیسا ہے؟ ہم اپنے آپ کو کس کام کا اہل سمجھتے ہیں؟ ہمارے دست و بازو میں کتنی قوت ہے؟ ہم میں کسی کام کے کرنے کی استعداد کتنی ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں اپنی استعدادوں کی انوینٹری کرتے رہنا چاہیے- کسی خاموش جگہ پر بیٹھیے اور کاغذ پر اپنے متعلق اچھی باتیں لکھنا شروع کیجئے- وہ کام جنہيں کر کے آپ خوش ہوتے ہیں اورلذت پاتے ہیں ان کی ایک فہرست بنائيے- مثلاً:

۔۔ کیا آپ خوش مزاج ہیں؟

۔۔ کیا آپ وقت کے پابند ہیں؟

۔۔ کیا آپ مہمان نوازہیں؟

۔۔ کیا آپ لوگوں سے ملنا پسند کرتے ہیں؟

۔۔ کیا آپ ہاتھ سے کام کرنا پسند کرتے ہیں؟

۔۔ آپ کو ریاضی، کیمسٹری، شماریات، انگریزی جیسے مضامین میں سے کونسا مضمون پسند ہے؟

۔۔ کیا آپ کسی کام کے سرانجام دینے میں تردد سے کام لیتے ہیں؟

۔۔ کیا آپ چیلنج پسند کرتے ہیں؟

۔۔ کیا آپ انجانی جگہ اور اجنبی لوگوں سے ملنے سے گھبراتے ہیں؟

۔۔ کیا آپ ایک اچھے سیلزمین ہیں؟

آپ کا سیلف امیج اگر منفی ہے تو اس کو بدلنا زیادہ مشکل امر نہیں- ایسا دیکھنے میں شاذونادر ہی آیا ہے کہ ایک شخص کا سیلف امیج منفی ہو اور وہ خوشحال زندگی گزار رہا ہو- منفی سیلف امیج بدلنے کے لیے پہلی بنیادی بات تو یہ ہے کہ اپنے ذہن میں سے منفی رجحانات کو یوں نکال دیجئے جسے باغبان جڑی بوٹیوں کو پھولوں، پھلوں کے درختوں میں سے نکال باہرپھينکتا ہے۔

مثبت سیلف امیج پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنی استعدادوں پر اپنی پوری توجہ مرکوز کیجیے- بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ چونکہ اس قدر خوش شکل اور اسمارٹ نہیں، اس لیے کامیابی کے زینے پر پوری گرفت سے چڑھ نہیں سکتے- حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ کا اپنے اردگرد کےلوگوں سے  موازنہ کرنا مناسب نہیں- خدا نے آپ کو ایک منفرد شخص بنایا ہے اور اس پاک ذات سبحانہ نے آپ کو خاص منفرد استعدادوں سے اپنی جانب سے نوازا ہے- آپ اپنی تمام ترتوجہ اس بات پر مرکوز کیجیے کہ آپ کتنےاسمارٹ اور ذہین، با اخلاق اور ملنسار انسان ہيں- اچھے صاف ستھرے کپڑے پہن کر اپنے آپ کو آئینے میں دیکھیے، آپ کتنے اسمارٹ  نظر آتے ہیں۔

ایک ضروری بات یہ ہے لوگوں سے جب آپ ملیں تو خوش مزاجی سے ملیں۔اپنے چہرے کو مسکراہٹ کے زیور سے آراستہ رکھیں۔

مسکراہٹ ایک چھوت ہوتی ہے. آپ کو مسکراتا دیکھ کر لوگ بھی مسکرانا شروع کردیں گے۔ جس بد قسمت انسان کے چہرے پر تیوریاں چڑھی ہونگی اس سے ملنا کون پسند کرے گا ؟ جو لوگ مسکراتے نہیں ہر وقت دوسروں سے ناراض رہتے ہیں ایسے لوگوں سے مل کر تو انسان پر اضمحلال (ڈپریشن) طاری ہو جاتا ہے۔ کوشش کیجئے کہ آپ خوش مزاج لوگوں کی صحبت میں رہیں۔ مایوس کو کبھی اپنے قریب نہ آنےدیجئے۔ یہ انسان کی سب سے خفیہ دشمن ہے۔ مایوسی کا اثر انسان پر رفتہ رفتہ یوں ہوتا ہے کہ پھر انسان اس سے صحت یاب نہیں ہوسکتا۔ کہتے ہیں کہ” اپنے بنانے والے کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں”۔

اپنا مقابلہ اپنے سے زیادہ امیر لوگوں سے نہ کیجئے بلکہ اپنے سے کم حیثیت والے لوگوں سے کیجئے۔اگر اللہ نے آپ کو زیادہ دولت سے نہیں نوازا تو دیکھئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیگر نعمتوں سے نوازا ہے ۔اپنا مقابلہ دوسروں سے کرنا ایسے ہی ہے جیسے غبارے میں سے کوئی ہوا خارج کردے۔ خداوند کریم نے جن نعمتوں سے آپکو نوازا ہے ان کو ہمیشہ اپنے مد نظر رکھیے۔ ایک دانا شخص سے پوچھا گیا کہ قیامت کے روز اللہ کی حکومت کیسی ہوگی؟ اس نے جواب دیا مجھے علم نہیں لیکن ایک بات کا ضرور علم ہے کہ قیامت کے روز جب میں خداوند کریم کے حضور حاضر ہوں گا تو مجھ سے یہ استفسارنہیں کیا جائے گا کہ تم موسیٰ علیہ السلام جیسے کیوں نہ تھے؟ یا تم نے صلاح الدین ایوبی جیسے کارنامے کیوں نہ انجام دیئے۔

اپنے کام میں شغف پیدا کرنا بھی ایک لازمی امر ہے۔ اپنے کام یا ہنر سے متعلق کتابیں پڑھیں۔ میگزین خریدیں اور رسالے پڑھیں تاکہ وہ کام آپ کی فطرت ثانیہ بن جائے۔ بچوں کے لیے شروع شروع میں بائیسیکل چلانا جوۓ شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے مگر سال چھ ماہ بعد بچہ بائیسیکل بغیر سوچے سمجھے یوں چلاتے ہیں گویا وہ ماں کے پیٹ سے چلانا سیکھ کر آئے تھے۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ جو لوگ ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرتے ہیں ان میں بعض ایک سرجن بن جاتے ہیں اور سرجن آپریشن میں مہارت پیدا کرنے کے لئے کتنی عرق ریزی سے آپریشن کرنا اور ٹانکے لگانا سیکھتے ہیں۔ انسان کے انسانی جسم کے بعض حصوں کی چھوٹی سے چھوٹی جگہوں پر آپریشن کرنا بعض مرتبہ کتنا مشکل ہوجاتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ ہر عضو، شریان، رگ وغیرہ کو ٹھیک ٹھاک اس کے صحیح جائے مقام پر واپس رکھنا کتنا ضروری ہوتا ہے ۔

بعض لوگ ایک نیا کام یا بزنس شروع کرتے ہیں.جب شروع میں توقع کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو بد دل ہو جاتے ہیں.حالانکہ چاہئیے تو یہ کہ جب ناکامی ہو تو اپنے آپ پر نظر ڈالیں کہ مجھ میں کیا خامی تھی کہ مجھے ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لیے اپنے آپ میں خوبیاں پیدا کیجیے۔ اپنا سیلف امیج بنائیے پھر دیکھیں کامیابی کس طرح آپ کے قدم چومتی ہے۔

اپنے آپ کو ہمیشہ ایک کامیاب انسان کے روپ میں دن رات ہرآن ہر لمحہ دیکھیئے۔ اپنے متعلق برے الفاظ جیسے کم عقل، بے وقوف، کم بخت ہرگز استعمال نہ کیجئے۔ آپ نے کبھی غور کیا جو لوگ باسکٹ بال کے کھلاڑی ہوتے ہیں وہ دن رات چلتے پھرتے گیند کو بکٹ میں ڈالتے رہتے ہیں اور جو لوگ کرکٹ کے شوقین ہوتے ہیں ان کے چلنے کا انداز ہی کچھ اور ہوتا ہے اس چیز کو نفسیاتی زبان میں امیجنگ کہتے ہیں۔

کامیابی کے لئے یہ امر لازم ہے کہ جو مشکل درپیش ہے اس کا حل بار بار سوچئے، پھر اس حل پر عمل درآمد کرنے کے لیے مختلف عوامل اور ذرائع پر غور و خوض کیجئے۔ ان ذرائع پر عمل کرنے کے لئے عمل کو اپنے ذہن میں اتنی بار دہرائیے کہ مذکور مشکل کا حل آپ کو مکمل طور پر ازبر ہوجائے اور وہ عمل آپ کے لاشعور میں واضح ہو جائے۔

سیلف امیج کو بڑھانے کے لئے ایک بات جوغیر شعوری طور پر حائل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ کیا سوچیں گے؟ یا دوسرے لوگ، دوست، عزیز اور رشتے دار آپ سے کیا امید رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ آپ آپ ہی ہیں ۔اس بات کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے کہ لوگ آپ کو کس روپ یا کردار میں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ خداوند کریم نے آپ کو جو استعدادیں ودیعت کی ہیں آپ ان سے انکار ہرگز نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کے والدین یا بھائی چاہتے ہیں کہ آپ ایک پیشہ ور وکیل بنیں جب کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ میں وکیلوں جیسی خصلتیں نہیں ہیں بلکہ آپ کا من یہ کہتا ہے کہ آپ ایک اچھے بزنس مین بنیں تو مناسب یہی ہے کہ بزنس مین بن کر آپ اپنے آپ میں پنہاں خوبیوں کو اجاگر کیجیے۔

اپنے اردگرد اچھے دوستوں، بااعتماد، باوقار احباب کا حلقہ پیدا کیجیے۔ اپنے عزیزوں، تعلق داروں سے اچھے تعلقات استوار کیجئے کیونکہ فیملی یونٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اللہ نے رشتے دار باہمی محبت، مودّت اور ضرورت کے وقت مدد کے لئے بنائے ہیں۔ جتنی محبت آپ کو زیادہ ملے گی اتنا ہی آپ زیادہ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔ وہ لوگ جن کے فیملی تعلقات استوار نہیں ہوتے ہیں یا آئے روز گھریلو پریشانیوں میں خواہ مخواہ کا الجھے رہتے ہیں، کامیابی ان کے گھر کا رخ نہیں کرتی۔

دوست بنائیے اور اچھے دوستوں کی صحبت میں رہیے۔ وہ آپ کے لئے ایک عمارت کے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔